وہ کچن میں کھڑی سبزی کاٹ رہی تھی۔ وہ لڑکی کسی ملکہ سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔اُس کا حجاب اُس کے سر کا تاج تھا۔ چاقو بھی اس کے نرم و نازک ہاتھوں میں آنے پر فخر محسوس کررہا تھا۔ وہ اسے چھونے سے خود کو روک نہ پایا ا ور اس کی انگلیوں کو چھو کر گزر گیا۔ آہ!!!۔۔۔

آہ کی آواز سن کر ایک لڑکا کچن میں داخل ہوا۔ اس نے لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور اس کی زخمی انگلیوں کو منہ میں رکھ کر دبا دیا تاکہ خون رک جائے۔ ’’کتنا میٹھا خون ہے ان ہاتھوں میں۔‘‘ اُس نے شوخ انداز میں کہا۔ وفا نے فوراً اپنا ہاتھ سمیع کے ہاتھوں سے چھڑا لیا۔ ’’تمہیں کتنی مرتبہ کہا ہے ایسا مت کیا کرو‘‘ وہ بولی۔ ’’اور مَیں ہر بار اس چاقو سے کہتا ہوں کہ تمہیں زخمی کرے تاکہ مجھے تمہیں چھونے کا موقع مل سکے۔‘‘ سمیع نے وہ چاقو اُٹھاتے ہوئے کہا۔ وفا نے دوسرا چاقو لیا اور پھر سبزی کاٹنے لگ گئی۔ ’’دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا؟‘‘ سمیع نے چاقو رکھتے ہوئے پوچھا۔ وفا نے سمیع کی طرف لمحہ بھر کے لیے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔ وہ ابھی بھی اُس کو دیکھ رہا تھا۔

آنکھیں ایسی جیسے کسی ڈبیا میں بند موتی ہو۔ ترچھا ناک، گلابی گال جو میک اپ سے پاک تھے۔ جب بولتی تھی تو ایسا لگتا تھاجیسے بلبل کوئی سُر گاتی ہو۔ ’’کب تک ان سب کی خدمت کرتی رہوگی؟ دن رات غلاموں کی طرح کام کرتی رہتی ہو۔ یہ تمہارے اپنے ہو کر تمہارے اپنے نہیں ہیں‘‘ سمیع نے فکر مند ہو کر کہا۔  پھر اُس کی باتوں میں شوخی آ گئی ’’دوسروں کو بھی کبھی اپنے بارے میں سوچنے کا موقع دیا کرو۔ ٹھیک ہے تمہیں نہیں چھوتا۔ لیکن پلیز چاہے تم میری نہ بھی بننا چاہو، بس مجھے اپنا بنا لو۔ سب کے لیے کتنا کچھ کرنے والی کیا میرے لیے اتنا نہیں کر سکتی؟‘‘

اُس کی کسی بات کا وفا پر رتی برابر اثر نہ ہوا۔ اب اُس کے لہجے نے سنجیدگی اختیار کر لی: ’’ارے کبھی تو مسکرا دیا کرو۔ مَیں تمہیں یہاں سے دُور لے جاؤں گا۔ کوئی تمہیں قاتل نہیں کہے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ حقیقت  میں قاتل یہ سب ہیں جنہوں نے ایک زندہ جان کو بار بار مرنے پر مجبور کیاہے۔ آخر تم نے گناہ ہی کونسا کیا ہے؟ ‘‘ جب اُس نے پھر جواب نہ پایا تو وہاں سے چلا گیا۔

۔۔۔۔۔

سارا کام مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے روم میں چلی گئی۔ ایک آدمی نے باہر سے کمرے کو بند کر دیا۔ یہ شروع سے چلا آ رہا تھا۔ جب وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہوتی تو اُسے اُس ہی کے کمرے میں قید کر دیا جاتا تاکہ وہ باہر نہ نکلے۔ دروازہ تبھی کھولا جاتا تھاجب اُسے دوبارہ کام کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ وہ شیشے کے سامنے جا کر بیٹھ گئی۔ اُس نے اپنا حجاب اتارا۔ سر کے بال یوں سِرکے جیسے بہتی آبشار۔ وہ خود کو شیشے میں دیکھتے ہوئی کھو سی گئی۔ وہ ماضی کی یادوں میں چلی گئی۔

’’نہیں امی! میں نے کچھ نہیں کیا!‘‘  ’’سارا  تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے جان بوجھ کر اُسے نشے کی گولیاں دیں تاکہ تم آسانی سے اپنی بڑی بہن کا قتل کر سکو‘‘۔ اُنہوں نے یہ ساری باتیں وفا کو پیٹتے ہوئے کیں۔ ادھر نعمان آیا ’’شکیلہ بھابھی اگر آپ نے اب وفا کو مارا تو مَیں سب کچھ سفیان بھائی کو بتا دوں گا۔‘‘
’’یہ قاتل ہے یہ اپنی بہن کا ایک دن قتل کرے گی۔ یہ قاتل بنے گی!‘‘ نعمان وفا کو اٹھا کر وہاں سے لے گیا۔ شکیلہ مسلسل بولتی رہی۔  ڈاکٹر صاحب نے کمرے سے باہر آ کر شکیلہ سے کہا’’ جوس میں نشے کی دوائی تھی۔ کچھ گھنٹوں تک وہ ہوش میں آ جائے گی۔‘‘ شکیلہ کمرے کے اندر چلی گئی۔

’’میری پیاری ملیحٰہ ! مَیں تمہاری چھوٹی بہن کو تمہارا قتل نہیں کرنے دوں گی۔ تم سے ہمیشہ دوررکھوں گی تم فکر مت کرو۔‘‘ وفا اُس وقت آٹھ سال کی تھی۔ کسی نے جوس میں وہ دوائی ملا دی تھی جو کہ غلطی سے ملیحہ نے پی لیا تھا۔ لیکن شکیلہ وفا کو قصور وار سمجھتی تھی۔ تب سے وفا کو کمرے میں بند رکھا جانے لگاکہ کہیں وہ اپنی بڑی بہن کا قتل نہ کر ڈالے۔ وفا جب پیدا ہوئی تو تبھی سے اُس کی پرورش آیا نے کی۔ شکیلہ اُسے ہمیشہ اپنی بیٹی ملیحہ کی قاتل کہتی تھی۔ آخر وہ ایسا کیوں کرتی؟ وفا چھوٹی عمر میں ہی گھر والوں کے کام کرنا شروع ہو گئی تھی۔ کام کاج کے بعد اُسے واپس کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا۔ ملیحٰہ کی ہر خواہش کو پورا کیا جاتا اور وفا کو ضرورت کی چیز بھی ایسے دی جاتی جیسے کسی کو بھیک دی جا رہی ہو۔ سفیان صاحب  امریکہ  ایسے گئےکہ پھرکبھی واپس نہ آئے۔ صرف فون پر ہی بات ہوتی اور وفا انہیں کچھ بھی نہیں بتاتی تھی اور نہ ہی کبھی نعمان نے انہیں کچھ بتایا۔

پھر کچھ یاد کر کے وفا اچانک کھڑی ہوگئی۔ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ اس نے آنکھوں کے نیچے ٹپکتے آنسوؤں کو محسوس کیا۔ وہ پھر ماضی میں کھو گئی۔ بہت پیچھے۔ اتنا کہ جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھی۔ ’’یہ دیکھو رپورٹس!‘‘ مریم نے رپورٹس وفا کی ماں شکیلہ کی جانب پھینکتے ہوئے کہا۔ ’’اب کی بار بھی بیٹی ہے۔‘‘ یہ سن کر شکیلہ کو زوردار جھٹکا لگا۔ ’’مجھے تو ڈر ہے کہیں وہی سب دوبارہ نہ ہو جائے۔تم پر تو کسی کو شک نہیں ہوا لیکن اگر یہ دونوں بھی بڑی ہو کر ایک دوسرے کی دشمن بن گئیں تو؟ اگر اس چھوٹی بہن نے بھی اپنی بڑی بہن کا تمہاری طرح قتل کر دیا تو؟ تم کیا کرو گی؟‘‘ اُسے یہ بات زہر لگی۔ ’’تم میری دوست ہو یا دشمن؟ مَیں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گی۔‘‘
’’مَیں تو کہتی ہوں اس کو پیدا ہی مت کرو۔ اسے مار ڈالو‘‘
’’اگر مَیں نے ایسا کیا تو اس کا باپ مجھے مار ڈالے گا۔ اور ابھی دو مہینے پہلے ہی تو وہ باہر گیا ہے۔ مجھے نیا سیاپہ کھڑا نہیں کرنا۔‘‘ شکیلہ اس کے بعد رونے لگی اور روتے روتے سو گئی۔ اس نے اپنے اوپر وزن محسوس کیا۔ شکیلہ نے آنکھ کھولی تو ایک بھیانک سی عورت اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا گلا دبا رہی تھی۔ شکیلہ نے پورے زور سے اُسے پیچھے مارا۔ وہ گبھرا کر اُٹھ گئی۔ وہ عورت قہقہے لگا کر ہنس رہی تھی۔ لمبے لمبے ناخُن، بکھرے ہوئے بال۔ چہرہ بگڑا ہوا تھا۔ جیسے کسی نے کئی مرتبہ چہرے پر کسی ہتھیار سے وار کیا ہو۔ ایک کلہاڑی اُس کے سر پر لگی ہوئی تھی جو کہ اُس کی کھوپڑی کے آر پار تھی اور وہ اُسی حالت میں سر پر موجو تھی۔ ’’کیا ہوا میری چھوٹی بہنا؟‘‘ شکیلہ بولی۔
’’یہ حالت میری تم ہی نے کی ہے۔ہو گئی نا تمہاری سفیان سے شادی؟ لیکن تم زندگی بھر اس کے لیے ترستی رہو گی۔ وہ واپس نہیں آئے گا۔ اور یہ تمہاری بیٹیاں! ایک دوسرے کی زندگی برباد کریں گی۔ تمہاری طرح قاتل بنیں گی۔‘‘ اس عورت نے شکشیلہ کے قریب آ کر کہا۔’’ یہ دیکھو کلہاڑا‘‘اس نے اپنے سر کی طرف اچھاڑا کیا۔ ’’نکالو  اس کو ہاہاہا!‘‘ شکیلہ زور زور سے چیخنے لگی۔ نوکرانی نے آکر شکیلہ کو دیکھا۔ کمرے میں وہ اکیلی چیخ رہی تھی۔ کوئی بھی وہاں نہیں تھا سوائے اُس کے۔ نوکرانی نے اُسے پانی پلایا۔  وہ کانپ رہی تھی۔ وہ نفسانی مریضہ بن چکی تھی۔

(اگلے صفحے پر کہانی جاری ہے)

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *