شکیلہ نے سفیان کو پانے کی خاطر اپنی بڑی بہن کا بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ مریم نے جو کہ اُس کی دوست تھی اُس کا ساتھ دیا۔ ان دونوں نے اُس کی لاش کو گاڑی میں ڈالا اور ایک سنسان جگہ پر لے گئے۔ دونوں نے مل کر قبر کھودی۔ لاش کو گاڑی سے باہر نکالا۔ ہوا سے کپڑا اُس کے چہرے سے اُتر گیا۔ جب شکیلہ نے اُس کا چہرہ دیکھا تو اُسے اپنے کیے پر ندامت ہوئی۔ وہ زاروقطار رونے لگی۔ ’’کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ کوئی دیکھ لے گا۔ چلو جلدی سے اِسے دفنا دیں‘‘ مریم نے کہا۔ ’’ایک مرد کو حاصل کرنے کی خاطر مَیں انسانیت سے اتنا نیچے گر گئی کہ مَیں نے اپنی ہی بہن کو مار ڈالا۔‘‘ وہ روتے ہوئی بولہ۔ پھر ان دونوں نے اُسے دفنا دیا۔

شکیلہ اُس کی قبر پر بیٹھ کر رونے لگی۔ اُسے اپنے کیے پر افسوس ہوا لیکن بُرے کرم کبھی اچھے کرموں میں نہیں بدلا کرتے۔ اُسے کھلی آنکھوں سے وہ بھیانک خواب آتے رہتے تھے جن میں اُس کی بڑی بہن ہوتی تھی جو اُسے کہتی تھی کہ تمہاری بیٹی قاتل بنے گی۔ اِسی ڈر سے وہ وفا سے ایسا سلوک کرتی تھی۔ لیکن وفا نے ہمیشہ اپنی ماں اور بڑی بہن کی خدمت کی۔ جب شکیلہ بیمار ہوئی تو وفا نے اس کی تیمارداری کی۔ لیکن ملیحٰہ   ایک مرتبہ بھی  اُسے دیکھنے نہ آئی۔ شکیلہ نے جب یہ بات محسوس کی تو اُسے اپنے کیے پر دکھ ہوا۔ اُس کے دل میں وفا کے لیے رحم دلی پیدا ہوئی۔  وہ اس سے اب ذرا نرمی سے پیش آنے لگ گئی تھی۔ تب اس نے وفا کو یہ راز خود بتایا اور بتایاکہ یہی وجہ تھی جو وہ ملیحہ سے اُسے دور رکھتی تھی۔ وفا نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ اپنی بڑی بہن کا خیال رکھے گی۔

وفا ماضی کی یادوں سے باہر نکل آئی جب اُسے شکیلہ نے آواز دی۔ لاک کھولا گیا اور وہ باہر آئی۔ گھر میں مہمان آئے تھے۔ وفا نے ان کی خوب مہمان نوازی کی جسے دیکھ کر سب خوش ہوئے۔ سمیع دور کھڑا ُسے دیکھتا جا رہا تھا۔ وہ اس کا کزن تھا اور آرمی افسر تھا۔ چھٹیوں میں وہ وفا سے ملنے آتا تھا۔ وہ اُسے بے پناہ چاہتا تھا۔ مہمان بچے نے اپنی ماں سے کہا ’’امی یہ کتنی اچھی نوکرانی ہے۔‘‘ وفا نے جب یہ سنا تو اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔ ملیحٰہ نے یہ سن کر قہقہہ لگایا۔ سمیع نے آگے بڑھ کر وفا کا ہاتھ پکڑا اور مہمانوں سے کہنے لگا ’’یہ کوئی نوکرانی نہیں بلکہ اس گھر کی بیٹی ہے۔‘‘ شکیلہ کے دل میں بھی ممتا جاگی۔ اُس نے وفا کے سر پر پیار دیا اور بولی ’’جی یہ میری بیٹی ہے۔‘‘ ملیحٰہ نے جب یہ سب دیکھا تو وہ حسد میں جل گئی۔ وہ غصے سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ابھی بھی زیادہ چیزوں کی حقدار تو ملیحٰہ ہی تھی لیکن وفا کے اچھے سلوک سے بھی وہ حسد کرنے لگ گئی تھی۔

۔۔۔۔۔

کھانے کے بعد وفا سب کے لیے کسٹرد لے کر آئی۔ جب اُس نے کسٹرڈ کی پیالی نعمان کو دی تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ مسلسل ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ سمیع ان کے قریب آیا تو نعمان وفا کو دعائیں دینے لگا۔ لیکن وفا کی آنکھوں میں نفرت دکھائی دے رہی تھی۔ وفا ایک کونے میں چلی گئی اور رونے لگی۔ سمیع اُس کی رونے کی وجہ سمجھ نہ سکا۔ وہ کمرے میں چلی گئی۔ اُس وقت اس کی عمر ۲۲ سال تھی۔ وہ پھر ماضی کی یادوں میں کھو گئی۔

(حالیہ و قت سے پہلے جب وہ پندرہ سال کی تھی)

وفا کو اپنے چاچو نعمان سے بہت پیار تھا۔ وہ کیونکہ ہمیشہ وفا کا ساتھ دیتے تھے، وفا انہیں اپنے باپ جیسا سمجھتی تھی۔ ایک دن شکیلہ کسی کام سے باہر گئی تھی۔ وفا معمول کے مطابق صفائیوں میں مصروف تھی۔ اِدھر ملیحٰہ نعمان کے کمرے سے باہر  آئی اور وفا کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ’’کیا سمجھتی ہو تم؟ یوں سب گھر والوں کی خدمت کر کے تمہیں مقام حاصل ہو جائے گا؟ تم بس نوکرانی بن کر رہو گی ہمیشہ۔ ‘‘ اُس نے وفا کو بالوں سے  پکڑا۔  ’’تمہیں دکھاتی ہوں کہ تمہاری اوقات کیا ہے۔‘‘‘ ملیحٰہ نے اُسے بالوں   سے کھینچا اور اُسے زمین پر گرا دیا۔  ’’ جوتا صاف کرو میرا۔‘‘ وفا کچھ نہ بولی اور اپنے دوپٹے سے اس کا جوتا صاف کیا۔ ’’سب کے دل میں جگہ بنانا چاہتی ہونا! تمہاری بس اتنی سی اوقات ہے۔ ہو کیا تم میرے سامنے؟ جاؤ اور چاچو کا کمرہ صاف کرو۔‘‘ وہ وہاں سے اُٹھی اور نعمان کا کمرہ صاف کرنے چلی گئی۔  ملیحٰہ  وہیں کھڑی رہی۔ وفا جب کمرہ صاف کر رہی تھی تو نعمان نے ا  نے اُس سے کہا۔ ’’کتنی پیاری بیٹی ہے میری! تم یہ کام کرتے ہوئے اچھی نہیں لگتی۔‘‘

’’آپ کتنے اچھے ہیں چاچو۔‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے اُن کے سینے سے لگ کر رونے لگ گئی۔   جب وہ پیچھے ہٹنے لگی تو نعمان نے اُسے پیچھے نہ ہونے دیا۔ ’’چاچو یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘ وہ چِلا کر بولی۔ ملیحٰہ نے جب چِلانے کی آواز سنی تو اسے دیکھنے کی بجائے اپنے کمرے میں  چلی گئی اور تیز آواز میں میوزک آن کر لیا۔ ادھر نعمان اس سے زبردستی کرنے لگا۔ وہ چیختی رہی۔۔۔ چلاتی رہی۔۔۔ اس کے چیخوں سے گھر کی دیواریں تک دہل اٹھیں۔ لیکن اس ظالم کا دل نہ دہلا۔ اسے رحم نہ آیا۔ اس نے ایک مظلوم پر ذرا ترس نہ کھایا۔  ’’خبردار کسی سے کچھ کہا تو! ورنہ تیری بہن کے ساتھ بھی یہی کروں گا۔‘‘ اسے کیا معلوم تھا کہ جس کو بچانے کے لیے وہ اپنے منہ کو بند کیے ہوئے تھی وہی بہن اس کی زندگی کی بربادی کی وجہ تھی۔

یہ وہی ماضی کی بھیانک یاد تھی جن کو سوچ کر وفا کانپ اٹھتی تھی۔ سات سال پہلے کی یادیں۔ اور اس سے بھی بہت پہلے کی۔۔۔ سب اسے لمحہ بہ لمحہ یاد آتا رہتا تھا۔ وہ نشے کی دوائی بھی نعمان نے ملائی تھی جسے غلطی سے ملیحٰہ نے پی لیا تھا۔

(آخری صفحہ آگے جاری ہے)

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *