آج کے دن سمیع کو واپس جانا تھا۔ اُس کی چھُٹیاں ختم ہو گئی تھیں۔ وہ وفا سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔ رات کو وہ اپنے کمرے میں گئی اور دروازہ لاک کر دیا گیا۔ملیحٰہ نے وہ چابیاں لے کر نعمان کے ہاتھ میں تھما دیں۔  اور شکیلہ کو نیند کی گولیاں دودھ میں ملا کر پلا آئی۔ اِدھر نعمان وفا کے کمرے میں چلا گیا۔ وفا نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا ۔ شکیلہ دوڑتی ہوئی کمرے سے باہر آئی۔   ملیحٰہ اُسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اُس نے  ٹیبل پہ پڑا ہوا مگدان اٹھایا اور شکیلہ کے سر پر دے مارا۔ ’’بڑی ممتا جاگ رہی ہے آج آپ کی؟ ہر چیز کی حقدار صرف مَیں ہوں۔ ذرا سی شفقت بھی مَیں اُس کے نصیب میں نہیں آنے دوں گی۔  مَیں بڑی ہوں سب میرا ہے۔‘‘

وہ یہ سب حسد اور غرور میں کہتی جا رہی تھی۔ شکیلہ کے سر سے خون بہنےلگا۔ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔ ملیحٰہ دوسرا وار کرنے والی تھی کہ سمیع نے آکر اُسے زور دار طماچہ مارا۔ وہ ایک فوجی کا تھپڑ کھا کر ہی زمین پر ڈھیر ہو گئی۔  وہ دوڑا ہوا وفا کے کمرے میں گیا۔ وفا جلدی سے سمیع کے پاس آگئی۔ نعمان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ ’’مَیں جانتا تھا آپ ایسا ہی کچھ کریں گے۔ آپ جیسوں کی ایک ہی سزا ہے۔‘‘ سمیع نے یہ کہتے ہی تین گولیاں اُس کے سینے میں اتار دیں اور ایک گولی اُس کے دماغ میں گھسا دی۔ وہ وہیں واصل جہنم ہو گیا اور اُسے اُس کے بُرے کاموں کی سزا اُس کے رب کے ہاتھوں ملی۔  ملیحٰہ کو پولیس لے گئی۔

اور شکیلہ کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ سمیع نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے سب بتایا۔ اُس نے چھٹی کا بہانہ کیا اور گھر میں ہی آ کر چھپ گیا۔ ملیحٰہ نے جس دودھ میں گولیاں ملائی تھیں وہ سمیع نے دھوکے سے گرا دیا تھا تاکہ شکیلہ خود اپنی آنکھوں سے ملیحٰہ کی چال بازی دیکھ سکے لیکن اُس نے شکیلہ پر ہی وار کر دیا۔ سیع نے یہ سب وفا کو بچانے کے لیے کیا اور دوسری طرف شکیلہ کی آنکھیں کھولنے کی خاطر۔ ہسپتال میں شکیلہ کی نظریں صرف وفا کو دیکھ رہی تھیں۔ اُس نے اشارے سے اُن دونوں کو اپنے پاس بلایا۔

’’سمیع میری بیٹی کا ہاتھ تھا م لو۔‘‘ وہ اس سے بھی آگے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ وہ اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔ وہ جسے اپنی بڑی بیٹی کی قاتل سمجھتی تھی وہ خود اُس کی محافظ نکلی۔ وہ اُس کے قدموں میں جھُک کر اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی موت نے اسے آ گھیرا۔۔۔ شاید یہی اس کے کرموں کی سزا تھی۔ ملیحٰہ کو اپنی بہن کے ریپ میں نعمان کا ساتھ دینے اور اپنی ماں پر جان لیوہ حملہ کرنے کی وجہ سے عمر قید کی سزا ہوئی۔  وفا کے ساتھ  غلط کرنے والوں کو اُن کے کرموں کی سزا ملی۔ سمیع وفا کو اُس کمرے سے جہاں وہ ماضی کی یادوں میں کھو کر خود کو تکلیف دیتی تھی، اس گھر سے بہت دور لے گیا۔ اس نے اسے مسکرانا سکھایا۔ اس نے وفا کی زندگی  کو اُس سے بھی زیادہ خوبصورت کر دیا۔ وہ دوبارہ کبھی ماضی کی یادوں میں واپس نہ گئی اور نہ ہی اُس گھر کی طرف کبھی مُڑ کر دیکھا۔ اُس کی کہانی لکھتے ہوئے قلم کا بھی اشک بہانے کو جی چاہتا ہے اور سوال یہ قلم سب سے پوچھتا ہے

’’کیا انسان کو اس کے کرموں کی سزا  نہیں ملے گی؟‘‘

۔۔۔۔۔

‘‘ مصنفہ: ’ نورِسحر

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *