تجھے کیا واسطہ مجھ سے
تجھے خود غرض لکھوں گی
 میری تنہائیاں اور دکھ
ہیں تجھ پہ قرض، لکھوں گی
 
جو گزرے درد کے لمحات
مجھ پہ کرب کے لمحات
وہ تیرے وصل کے لمحات
میں اپنے اشک لکھوں گی
 
میں لکھوں گی کہ میں گل تھی
کھلا تھا جو دریچے میں
بنایا تونے ہے مجھ کو
خزاں میں جھڑ گیا ہے جو
وہ پتہ زرد لکھوں گی
 
تجھے خود غرض لکھوں گی
ہیں تجھ پہ قرض لکھوں گی
 
…..
شاعرہ: ماہرہ احمد راؤ
Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *