In response to an article published in DAWN newspaper, dated 20th September 2017, exposing Private Medical Colleges Conspiracy.
(https://www.dawn.com/news/1358812)

کس سے منصفی چاہیں؟

رو‍زنامہ ڈان کے20 ستمبرکے پرچے میں پی ایم ڈی سی بورڈ کی ہوش ربا سفارشات پڑھنے کا اتفاق ہوا اور بورڈ میں ڈاکٹرز کےعلاوہ پرائیوٹ میڈ یکل کالجز کے پانچ نمائندے بھی شامل تھے،لیکن عوام یعنی طلبا اور والدین کے نمائندے ندارد تھے-گویا میڈیکل کی تعلیم کی مثلث (ڈاکٹر،سرمایہ دار،طالب علم ) کے دواضلاع موجود تھےاورآپس کے گٹھ جوڑ سے تیسرے ضلعے کی تقدیر بڑے دھڑلے سے لکھ رہے تھے- نتیجہ ظاہر ہے کیا ہوسکتا تھا؟ کمیٹی کی سفارشا ت پڑھ کر بےبس طلبا و والدین کے لبوں پر بےاختیار مرزا غالب کا یہ شعر ضرورآیا ہوگا
  پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پرناحق
آدمی کوئی ہما را دم تحریر بھی تھا
لیکن نہیں صاحب ! اگر ہمارا کوئ آدمی یعنی نمائندہ وہاں ہوتا توپی ایم ڈی سی کی یہ میٹنگ سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کی بد ترین صورت بن کر سامنے نہ آتی- یہ بات اب کوئ ڈھکی چھپی نہیں کہ سرکاری ملازمتوں سے ریٹا ئرہونے کے بعد آج کل سب ہی ڈاکٹرز انہی پرائیوٹ میڈ یکل کالجوں میں لاکھوں روپے کی تنخواہوں پر نوکری کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں – پی ایم ڈی سی کے ڈاکٹر صاحبان بھی شاید بعد از ریٹائرمنٹ اپنی نوکری پکی کرنےکی خاطر پرائیوٹ کالجز کے مالکان (اور اپنے مستقبل کے متوقع مالکان ) کے مفادات کے تحفظ میں تجاویز پیش کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے تھے- جس ملک میں خود کو ملک کی کریم کہنے وانے افراد سرمایہ دار کے اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہے ہوں، وہاں باقی لوگوں کا کیا حال ہو گا ؟ اور کیا یہ معاشرہ کسی بھی صورت جمہوری کہلایا جا سکتا ہے جہاں جمہور کو ہاتھ پیر باندھ کر سرمایہ دار کے آگے قربانی کے‍ بکرے کی طرح ڈال دیا جاۓ‎-
پی۔ایم ۔ڈی۔سی کی یہ سفارشات تعلیم کو مکمل طور پر تجارت بنانے کے مترادف ہیں- داخلے کے وقت ایڈ وانس چیکوں کی وصولی کی حیرت انگیز تجویز سے یوں لگتا ہے کہ طلبا داخلہ نہیں لے رہے بلکہ گاڑی لیز کرا رہے ہیں یا قرضہ لے رہے ہیں- میڈیکل کالج تعلیمی ادارے کی بجاۓ بینک معلوم ہو رہے ہیں
کیوںکہ صرف وہیں گاڑیاں لیز کرواتے ہوۓ یا قرضہ فراہم کرتے ہوۓ ایڈوانس چیک لیے جاتے ہیں- بداعتمادی،لالچ اور ہوس کے اس ماحول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا سے آپ کس کردار کی امید رکھ سکتے ہیں؟
جب کوئ سیاست دان لاکھوں روپے لگا کر انیکشن جیتا ہے توپھر وہ کروڑوں کی کرپشن کر کے اپنا نقصان بمع سود کے وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے ، ایسے ہی جب کوئ طالب علم لاکھوں لگا کر ڈاکٹر بنے گا تو کیا وہ کروڑوں کما نے کے لیے مریضوں کی کھال نہیں اتارے گا ؟ اور کیا سرکاری ملازمت کی
صورت میں آۓ دن اپنی تنخواہ بڑھوانے کے نیے ہڑتالیں نہیں کرے گا ؟ جب آج آپ اس سے مہربا نی کا سلوک نہیں کریں گے تو کل اس سے مریضوں کے لیے ہمدردی کا تقاضا کیسے کریں گے؟ کیا پی ایم ڈی سی کی یہ سفارشات ملک میں پیسے کی ایک نئ دوڑ شروع کرنے کا سبب نہیں بنیں گی؟
کیا ہر پرائیوٹ میڈیکل کالج کے اپنی مرضی کے اصولوں پر داخلہ کرنے سے میرٹ کا خون نہیں ہو گا ؟ میرٹ لسٹ ڈ س پلےنہ کرکےجس طرح یو ایچ ایس نے انٹری ٹیسٹ کی شفا فیت کو مشکوک بنایا ہے، کیا اسی طرح بغیر میرٹ لسٹ لگاۓ ، چور دروازوں سے کیے جانے والےداخلے معا شرے میں عدم
اطمینان کی فضا کومزید نہیں بڑھا دیں گے؟ ایسے چھپ کر کیے جانےے وانےداخلوں کا نتیبہ یہ ہو گا کہ کم میرٹ والے مال دار حضرات سے ڈونیشن کے نام پر فیس سے کہیں زیادہ رقم تو سرمایہ دار وصول کرے گا اور نقصان وہ طالب علم اٹھاۓ گا جو زیادہ باصلاحیت تو ہو گا لیکن سرمایہ دار کی ہوس کا منہ بھرنے کے لیے فا لتو پیسےدینےسےقاصرہوگا – کیا اپنے بچے کی محرومی بہت سےوالدین کو کرپشن پر مجبور نہ کرے گی، اور کیا معاشرے میں کم معاشی حیثیت کے حامل افراد کے دلوں میں بہتر معاشی حیثیت کےحامل افراد کے لیےنفرت کو جنم دے کر لوٹ مار،سنگ دلی اور بےحسی کے ایک نۓ دور کا آغازنہیں ہو جاۓ گا؟ کم میرٹ والے بچے کو داخلہ دے کراورزیادہ  باصلاحیت بچے کو رد کر کے ہم اپنے لیے نالائق ڈاکٹروں کی ایک کھیپ تیار کر لیں گے- کیا یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نہیں کہ اپنی زندگی کو  نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا جا ۓ اس ساری صورت حال کا سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہم کس سے منصفی چاہیں؟ وزیر اعلی سے، جوکہ خود ایک پرائیوٹ میڈیکل کالج کے مالکان میں سے ہیں یا اپوزیشن سے، کہ جس کے اہم افراد بھی اس کاروبار میں ملوث ہیں، یا پھر فوج سے مداخلت کی درحواست کریں جو خود آرمی،ایرفورس،بحریہ،حتی کہ رینجرزکے میڈیکل کالجز بنا کر اپنے سرماۓ میں دن دگنا رات چوگنا اضافہ کرنے میں لگی ہوئ ہے- اب تو سنا ہے کہ سرکاری اداروں،جیسےواپڈا وغیرہ نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کر لیا ہے- تو پھرکون ہے جو اپنا مفاد نظرانداز کرکےاس نا انصافی کے خلاف عوام کا ساتھ دے گا؟
ہمارا مقصد ان پرائیوٹ کالجز کو رفاہی ادارے بنانا یا ان کے جائز مفادات کوزک پہنچانا نہیں ہے، بلکہ ہم صرف یہ چاہتےہیں کہ یہ لوگ اپنےمفادات اور مالیات کا خیال ضرور رکھیں مگراعتدال کے ساتھ – میرٹ کو نظرانداز نہ کریں- میرٹ لسٹ لگا کر داخلوں میں شفا فیت کو برقرار رکھیں – فیسوں میں اضافہ حساب
کتاب سے ہو اور یہ ادارے مادر پدر آزاد نہ ہوں بلکہ حکومتی قوانین کے تحت ہوں- اسی برصغیر میں علاؤالدین خلجی نام کا ایک حکمران گزرا ہےجس نے ہر چیز کا سرکاری ریٹ مقرر کیا تھا،حتی کہ پیشہ ور عورتوں کا بھی ریٹ مقرر تھا- ہم اپنے حکمرانوں سے اتنے کنٹرول کی توقع تو نہیں رکھتے،البتہ اتنی خواہش ضرور ہے کہ عوام کو، جو ان کی ذمہ داری ہیں، مفاد پرستوں کے ہا تھوں لٹنے سے بچا ئیں اور داخلہ پالیسیوں اور فیسوں میں اضافےکی شرح کو عوام کی عمومی معاشی حیثیت کے حساب سے مقرر کرکے اس کی پابندی بھی کروائیں-

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *