زندگی سے تو ہمیں باہر نکال پھینکا

یہ بتاو کب خواب میں آنا چھوڑو گے

میں نے آپ کی بے خودی کو برداشت کیا

یہ بتاو کسی اور سے بھی منہ موڑو گے

دل فقط یادوں کا ایک چھوٹا مسکن ہے

یہ بتاو کتنی بار اس گھر کو توڑو گے

جب کفن میں لپٹی میری لاش سامنے آئے گی

یہ بتاو کیا مجھ سے تب بھی منہ موڑو گے

آپ نہ ملے خدا کو شاید یہی منظور ہے

یہ بتاو کب ہمیں بد دعا دینا چھوڑو گے

شعر کسی محبوب کی یاد ہوتا ہے طلحہ

یہ بتاو کب یہ شعر لکھنا چھوڑو گے

(طلحہ احمد )

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *