مجھے اپنی محبت پہ
نہیں ہے اعتبار اب بھی
مَیں اپنے نفس کی سچائیوں سے خُوب واقف ہوں
یہ اک خود غرض وحشی ہے
کہ جو عورت کا
اُس کے جسم کا
بستر کا طالب ہے

اور اپنی اس بہیمانہ خواہش کو چھپانے کے لیے
سب عورتوں کو
اور لوگوں کو
اور اپنے دوستوں کو
اور ان کو ہی نہیں بلکہ
یہ اپنے آپ کو بھی
بس یہی باور کراتا ہے

کہ ـــــ’’مَیں اِک عاشقِ دلگیر ہوں
مجھ کو محبت ہے
مری اپنی کوئی خواہش نہیں شامل محبت میں
مری تو یہ دعا ہے کہ
مرا محبوب خوش ہو
اور اگر اس کی خوشی یہ ہے
کہ وہ اک غیر سے شادی کرے
تو مَیں بھی اپنی ساری طاقت کو لگا دوں گا
کہ میرا یار اپنے یار سے ہر گز جدا نہ ہو
اگر اُس کی خواہش یہ ہے
کہ وہ مجھ سے کرے شادی
تو مَیں اس پہ بھی اپنی ساری طاقت کو لگا دوں گا
کہ میرا یار اپنے یار سے ہر گز جدا نہ ہو
مجھے اس سے محبت ہے
مری اپنی کوئی خواہش نہیں شامل محبت میں‘‘

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
اگر تیری کوئی خواہش نہیں شامل محبت میں
تو پھر مجھ کو بتا

تیرے خیالوں کے جزیروں میں
تو اس کے ساتھ کیوں ہوتا ہے
اس کو چومتا کیوں ہے
تو کہتا ہے ’’اُسے جس سے بھی الفت ہو
مجھے منظور ہے‘‘

لیکن تُو جلتا ہے
تو لوگوں سے چھپا لے، لاکھ پردے ڈال دے
لیکن تُو جلتا ہے
تُو اپنے آپ سے کیسے چھپائے گا
مَیں تجھ کو دیکھتا ہوں
جب دعا کرتا ہے تُو رب سے
تُو اُس کا وصل چاہتا ہے
تُو چاہتا ہے وہ تیری ہو
تُو اُس کا ہو

تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ
زندگی میں گر تجھے خوشیاں ملیں گی
تو اُسی سے
اور ترے دل کو سکوں ہو گا
اُسی سے
اور ترے دل کی خلا گر بھر سکے گی
تو اُسی سے

مَیں نہ کہتا تھا؟ کہ تُو خودغرض ہے
تُو چاہتا ے سب تجھے عاشق کہیں
وہ کہہ بھی دیں
پر مَیں تو سب کچھ جانتا ہوں
مَیں ترا دل ہوں
’’مجھے‘‘ اُس سے محبت ہے
مَیں اُس کے پاس بھی جانے نہیں دوں گا تجھے
وہ پاک ہے
تُو خاک ہے
مَیں آگ ہوں
مَیں تو جلاؤں گا تجھے
تُو چھوڑ دے اس کو
’’نہیں‘‘
یہ جنگ اب جاری رہے گی

آخری دم تک
’’مجھے منظور ہے‘‘

…..

شاعر: محمد روحان حسین

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *