ایک شخص رات 12 بجنے میں ایک منٹ پر پٹرول ڈ لوانے آیا۔ پٹرول پمپ والے نے کہا کہ آپ اس ریٹ پر پٹرول ڈ لوانے والے آخری گاہک ہیں۔ 12 بجے کے بعد نئے ریٹ سے پٹرول ملے گا۔ یہ سن کر وہ شخص بہت خوش ہوا اور اس نے ٹنکی فُل کروا لی۔ جاتے جاتے اس نے یوں ھی پوچھ لیا کہ اب سے پٹرول کی کیا قیمت ہو گی؟ پٹرول پمپ والے نے جواب دیا”اب سے پٹرول د س روپے فی لٹر سستا ملے گا۔” یہ سن کر اس شخص کی جو کیفیت ہوئی ہو گی اس کا اندازہ اس وقت پرائیوٹ میڈیکل کالجز کے طالب علموں کے والدین سے زیادہ کسی کو نہیں ہو سکتا کہ جو جنوری 2018ء سے چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے تحت سنائے گئے فیصلے کے نشے میں مسرور تھے کہ کوئی میڈیکل کالج-/ 642000 روپے سے زیادہ فیس نہیں لے سکتا اور ٹیکس اور دیگر اخراجات (جن سے مراد والدین کے خیال میں داخلہ فیس اور پی ایم ڈی سی کی فیس وغیرہ تھی) شامل کر کے-/ 850000 روپے سے اوپر نہیں جا سکتا۔ چنانچہ بعض والدین نے تو یہ سوچ کر ہی بچوں کو داخل کروانے کا کڑ وا گھونٹ پی لیا کہ ایک دفعہ کے بعد فیس مع ٹیکس سات لاکھ کے اندر اندر ہی ہو جائے گی۔ ہر طرف سے مہنگائی کے مارے والدین کے لیے تو یہ بھی بہت بڑا ریلیف تھا،لیکن چند مہینوں میں ھی ان کا یہ نشہ ہرن ہو گیا جب پرائیوٹ میڈیکل کالجز کی طرف سے انھیں یہ پیغام آیا کہ سپریم کورٹ کے خصوصی آرڈر پر سب کالجوں کو ہر سال کے بچوں سے ،-/850000 روپے سالانہ فیس لینے کا حکم آیا ہے،چنانچہ بہ حالتِ مجبوری وہ کالجز بھی جو پہلے -/800000 سے بھی کم فیس لیتے تھے،سپریم کورٹ کے آرڈر کے ہاتھوں مظلوم والدین سے -/850000 روپے لینے پر “مجبور” ہیں۔ اس کے ساتھ ہی والدین کو وقت سے پہلے ہی فیس کے چالان بھجوا دیےگئے اس ہدایت کے ساتھ کہ فوراً جمع کروا دیں۔ یعنی ابھی بچوں نے امتحان بھی نہیں دیا اور ان سے اگلے سال کی فیس مانگی جا رہی ھے۔ ایک سال میں ایک فیس اکٹھا کرنا ہی اکثر والدین کے لیے مشکل تھا،کجا دو دو فیسیں جمع کروانی پڑ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے ابھی اس سلسلے میں مکمل خاموشی ہے۔ چیف جسٹس سے التماس ہے کہ ایک دفعہ پھر از خود نوٹس لے کر اتنا واضح کر دیں کہ ان کے حکم کو والدین صحیح طور پر سمجھے یا میڈیکل کالجز کے سرمایہ دار مالکان نے اس کی درست تشریح کی جس کے تحت انھیں لوٹ مار کا نیا میدان گرم کرنے کا موقع مل گیا۔ اگر والدین کا موقف درست ہے تو خدارا ان کی مدد کریں، اور اگر سرمایہ دار صحیح سمجھا ہے تو والدین تو بس پھر یہی کہہ سکتے ہیں کہ

ع    ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا                                        

کیونکہ اس سے تو پہلے ہی بہ بہتر تھا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *